طلبہ احتجاج پر کانگنا رناوت کا متنازع بیان، سیاسی ہنگامہ شدت اختیار کر گیا
بھارتی اداکارہ اور رکن پارلیمان کانگنا رناوت کے طلبہ احتجاج سے متعلق متنازع بیانات پر سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگنا رناوت نے نوجوان نسل کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں، سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔
کانگنا رناوت نے اپنے پیغام میں احتجاج میں شریک نوجوانوں کے طرزِ عمل اور زبان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس قدر نامناسب رویہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے احتجاج میں شریک نوجوان خواتین پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی خودمختار خواتین اپنے فیصلوں کی ذمہ داری خود اٹھاتی ہیں اور خاندان کی قیمت پر اپنی شناخت قائم نہیں کرتیں۔
پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کانگنا رناوت نے اپنے بیان کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی مرحوم والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج ہوتے رہے ہیں، مگر اس طرح کی زبان طلبہ کے شایانِ شان نہیں۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے کانگنا رناوت کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سخت جواب دیا۔ پارٹی کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ نوجوان نسل نے ملک اور جمہوریت کے لیے وہ کردار ادا کیا ہے جو کانگنا رناوت خود نہیں کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگنا اب ایک سیاست دان ہیں، اس لیے انہیں اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔
یہ معاملہ اب سیاسی اور عوامی بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے، جہاں ایک طرف اظہارِ رائے کی آزادی اور دوسری جانب عوامی نمائندوں کی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔



